اتوار 26 جولائی 2026 - 03:10
مؤمن کی پہچان: دعویٰ نہیں، کردار

حوزہ/مؤمن کی اصل پہچان اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی اُسے دیکھنے والا نہ ہو، جب غصہ اُس پر غالب ہو، جب وہ صاحب اختیار ہو، جب ہاتھ تنگ ہو، جب خوف اُسے گھیر لے یا جب مصیبتیں اُس کے صبر کا امتحان لینے لگیں۔

تحریر: عروج فاطمہ

حوزہ نیوز ایجنسی|

مؤمن کون ہے؟

مؤمن صرف وہ نہیں جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرے، بلکہ مومن وہ ہے جس کا ایمان اُس کے کردار میں نظر آئے۔

مؤمن کی اصل پہچان اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی اُسے دیکھنے والا نہ ہو، جب غصہ اُس پر غالب ہو، جب وہ صاحب اختیار ہو، جب ہاتھ تنگ ہو، جب خوف اُسے گھیر لے یا جب مصیبتیں اُس کے صبر کا امتحان لینے لگیں۔

اسی لیے مومن کی پہچان اُس کے دعوے سے نہیں، بلکہ اُس کے کردار سے ہوتی ہے۔

امام زین العابدینؑ سے مومن کی علامات کے بارے میں منقول ہے:

1۔ تنہائی میں پاکیزگی

مومن وہ ہے جو تنہائی میں بھی گناہ سے بچتا ہے، کیونکہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ اگر دنیا اُسے نہیں دیکھ رہی تو اُس کا رب ضرور دیکھ رہا ہے۔

2۔ غصے پر قابو

مومن غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا اور ہر بدسلوکی کا بدلہ لینا ضروری نہیں۔

3۔ تنگ دستی میں سخاوت

مومن صرف خوشحالی میں نہیں دیتا، بلکہ تنگ دستی میں بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، کیونکہ اُس کا یقین مال پر نہیں، اللہ پر ہوتا ہے۔

4۔ خوف میں حق کا ساتھ

مومن خوف کے باوجود حق کا دامن نہیں چھوڑتا۔

کربلا اسی ایمان کی عملی تصویر ہے۔ امام حسینؑ کے سامنے مصیبتیں، جدائیاں اور خوف تھا، مگر حق کا راستہ نہیں چھوڑا گیا۔

5۔ مصیبت میں صبر

مومن وہ ہے جس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں، مگر وہ صبر کا دامن نہ چھوڑے۔

قرآنِ مجید فرماتا ہے:وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ."اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے، وہ لوگ کہ جب اُنہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"(سورۃ البقرہ: 155-156)

کربلا میں حضرت زینبؑ نے صبر، ایمان اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جسے تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی۔

اور جب اُن سے پوچھا گیا کہ کربلا میں کیا دیکھا، تو فرمایا:مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا. "میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔"

یہ جملہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن حالات کا غلام نہیں ہوتا، بلکہ حالات میں بھی اللہ کو دیکھتا ہے۔

جہاں دوسروں کو شکست نظر آتی ہے، وہاں مومن اللہ کی حکمت دیکھتا ہے۔

جہاں دوسروں کو صرف مصیبت نظر آتی ہے، وہاں مومن صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

دنیا نے کربلا میں مصیبت دیکھی، مگر حضرت زینبؑ نے اللہ کی رضا دیکھی۔

حرف آخر:

مومن حالات سے نہیں پہچانا جاتا،

مومن حالات میں اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha